ایران پالیسی پر امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں جنگی طاقتوں کے ایکٹ (War Powers Act) پر ہونے والی ووٹنگ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس غیر معمولی اقدام سے ایران کے ساتھ نمٹنے میں ان کی انتظامیہ کی سخت کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تند و تیز بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سینیٹ میں اس ووٹنگ کا وقت انتہائی غلط تھا، کیونکہ اس فیصلے نے تہران کو ایک ایسے نازک لمحے پر سراسر غلط پیغام بھیجا ہے جب ایران امریکی پابندیوں کی وجہ سے شدید دباؤ میں تھا اور واشنگٹن کو بڑی رعایتیں دینے کے لیے بالکل تیار تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ کی اس کارروائی نے وائٹ ہاؤس کی پوزیشن کو پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے اہداف کو “کسی نہ کسی طریقے سے” حاصل کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے اپنی ہی پارٹی کے ان چار ریپبلکن سینیٹرز کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اس اقدام کی حمایت میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، صدر نے انہیں “ہارنے والے” قرار دیتے ہوئے ان پر انتظامیہ کا کام مزید مشکل بنانے کا الزام لگایا۔
یہ سیاسی ترقی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی کانگریس نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے صدر پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف کوئی بھی نئی فوجی کارروائی کرنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ منظوری لیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ قرارداد ریپبلکنز کے زیر کنٹرول سینیٹ نے 48 کے مقابلے 50 ووٹوں سے منظور کی، جبکہ ایوانِ نمائندگان پہلے ہی اس کی منظوری دے چکا ہے۔ اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر صدر پر بائنڈنگ (پابند) نہیں ہے اور اسے حتمی منظوری کے لیے وائٹ ہاؤس نہیں بھیجا جائے گا، لیکن سیاسی مبصرین اسے انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی بڑی تقسیم کا واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے مابین تناؤ پانچویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور واشنگٹن میں فوجی حکمتِ عملی اور امن معاہدے کے امکانات پر بحث گرم ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا امریکی سینیٹ کی جانب سے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی یہ کوشش خطے میں امن لانے میں مددگار ثابت ہوگی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

