راولپنڈی کی خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ملیحہ سحر پر شوہر کے مبینہ تشدد کا کیس

راولپنڈی: خاتون اے ڈی سی پر تشدد کے الزام میں شوہر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ملیحہ سحر پر مبینہ طور پر جسمانی تشدد کرنے کے الزام میں ان کے شوہر جواد علی کو گرفتار کر لیا گیا۔

متاثرہ خاتون افسر کی شکایت پر ویمن پولیس اسٹیشن میں باضابطہ ایف آئی آر درج کی گئی جس کے فوراً بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا۔

پولیس کی جانب سے ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد فاضل جج نے جواد علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔

راولپنڈی کی خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ملیحہ سحر پر مبینہ طور پر جسمانی تشدد کے سنگین واقعے میں ملوث ان کے شوہر جواد علی کو پولیس نے گرفتار کر کے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا ہے۔ یہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب خاتون افسر نے خود تھانے پہنچ کر شوہر کے خلاف تحریری شکایت درج کروائی، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ایکشن لیا۔

ویمن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کا اندراج اور عدالتی حکم
پولیس ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ملیحہ سحر نے راولپنڈی کے ویمن پولیس اسٹیشن میں باضابطہ طور پر درخواست دی کہ ان کے شوہر جواد علی نے گھریلو تنازع پر ان پر حملہ کیا اور شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے شکایت موصول ہوتے ہی تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔

تفتیشی ٹیم نے ملزم جواد علی کو ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ تفتیشی افسر کی جانب سے قانونی تقاضے پورے کیے جانے پر عدالت نے ملزم کے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی منظوری دی اور اسے باقاعدہ طور پر جیل بھیجنے کا پروانہ جاری کر دیا، جبکہ تفتیش کاروں کو واقعے کے تمام شواہد یکجا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قانون کی یکساں بالادستی اور بیوروکریسی کا ردعمل
سرکاری حلقوں اور ضلعی انتظامیہ میں اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز خاتون کی جانب سے قانونی راستے کا انتخاب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ذاتی یا گھریلو تنازعات میں کسی بھی نوعیت کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جا رہی ہے اور خاتون افسر کی جانب سے فراہم کیے گئے تمام طبی و قانونی شواہد کو کیس فائل کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ عدالت میں ملزم کے خلاف ٹھوس استغاثہ پیش کیا جا سکے۔

صنفی مساوات اور اوورسیز کینیڈین پاکستانی کمیونٹی کا نقطہ نظر
پاکستان میں گھریلو و صنفی تشدد کے واقعات پر قابو پانا ایک دیرینہ چیلنج رہا ہے، اور جب اعلیٰ تعلیم یافتہ یا بااختیار انتظامی افسران بھی اس کا شکار بنتے ہیں تو یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے۔ کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی برادری پاکستان میں خواتین کے حقوق اور اینٹی ڈومیسٹک وائلنس قوانین کے مؤثر نفاذ کو ملکی ترقی اور سماجی ارتقا کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔

کینیڈین پاکستانی سول سوسائٹی کے ماہرین کے مطابق اس واقعے میں پولیس کی جانب سے فوری ایف آئی آر کا اندراج اور ملزم کا ریمانڈ پر جیل جانا ایک حوصلہ افزا قانونی مثال قائم کرتا ہے۔ یہ کارروائی عام خواتین کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ خوف اور خاموشی کے بجائے قانون کے دروازے کھٹکھٹانا ہی انصاف اور ذاتی تحفظ کے حصول کا سب سے پائیدار راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں