کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت ہونے والے میٹرک امتحانات میں ایک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دسویں جماعت کے بیالوجی کا پرچہ مبینہ طور پر امتحان شروع ہونے سے تقریباً 30 منٹ قبل لیک ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق، جیسے ہی امتحان کا وقت قریب آیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ سوالیہ پرچہ اور اس کے جوابات تیزی سے وائرل ہونا شروع ہو گئے۔ یہ واقعہ جاری امتحانی سیزن میں اس نوعیت کا پہلا نہیں، اس سے قبل نویں جماعت کا کمپیوٹر اسٹڈیز کا پرچہ بھی لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
مسلسل ایسے واقعات نے امتحانی نظام کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، حالانکہ بورڈ حکام کی جانب سے بارہا سخت اقدامات اور بہتری کی یقین دہانیاں کروائی جاتی رہی ہیں۔
ادھر بورڈ انتظامیہ کی جانب سے امتحانی مراکز کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ چیئرمین غلام حسین کا کہنا ہے کہ طالبات کے لباس کے حوالے سے کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی، لہٰذا انہیں برقع یا عبایا اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس حوالے سے کوئی شکایت سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید ہدایت دی کہ خواتین کے امتحانی مراکز میں مرد عملے کی تعیناتی سے گریز کیا جائے تاکہ طالبات کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
دوسری جانب، میٹرک امتحانات کے دوران سہولیات کی کمی بھی سامنے آئی ہے۔ مختلف امتحانی مراکز میں بنیادی انتظامات نہ ہونے کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر ملیر کے ایک سرکاری سکول میں طلبہ شدید گرمی میں بغیر پنکھوں کے امتحان دینے پر مجبور ہوئے، جس پر والدین اور طلبہ نے تشویش کا اظہار کیا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق، اگر ایسے واقعات پر فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ نہ صرف طلبہ کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے بلکہ تعلیمی نظام پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
