پاکستان معیشت 2026 میں نئی امید کا آغاز
جنوری 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کی معیشت میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ کئی برسوں تک خساروں، مہنگائی اور ڈیفالٹ کے خدشات کے بعد اب پاکستان معیشت 2026 میں استحکام اور اعتماد کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جن کا اثر صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ عوامی زندگی میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو فوری ریلیف
حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی لیٹر کمی عام آدمی کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ عالمی منڈی میں استحکام کا فائدہ اب ٹرانسپورٹرز اور مسافروں تک پہنچ رہا ہے، جو مہنگائی کے دباؤ میں واضح کمی کی علامت ہے۔
مہنگائی میں نمایاں کمی، گھریلو معیشت کو سہارا
دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس کم ہو کر 5.6 فیصد تک آ گیا، جبکہ خوراک کی مہنگائی 3.5 فیصد پر آ گئی۔ یہ کمی محض اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے روزمرہ زندگی میں آسانی کا سبب بنی ہے۔ ماہرین کے مطابق جب خوراک سستی ہوتی ہے تو سماجی استحکام بڑھتا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 176,650 پوائنٹس کی سطح عبور کر لی ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کی تیز رفتار ترقی
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک سہ ماہی میں 2.8 ارب ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان پاکستان کو غیر رسمی معیشت سے نکال کر ایک جدید، دستاویزی مالی نظام کی طرف لے جا رہا ہے۔
عوامی اعتماد اور عالمی سرویز
گیلپ کے حالیہ عالمی سروے کے مطابق پاکستان معیشت 2026 کے حوالے سے عوامی امید 53 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ امن اور مستقبل کے حوالے سے بھی پاکستانی عوام میں اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
چیلنجز اور محتاط آگے بڑھنے کی ضرورت
اگرچہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ تین سال کی کم ترین سطح پر لایا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مالیاتی نظم و ضبط، موسمیاتی خطرات اور ٹیکس اصلاحات پر مسلسل توجہ ضروری ہے تاکہ یہ بہتری عارضی ثابت نہ ہو۔
2026 ایک موقع یا آغاز؟
ماہرین کے مطابق 2026 کو اختتام نہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو صنعتی ترقی، ڈیجیٹل اصلاحات اور زرعی تحفظ کے لیے استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
