پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوبائی معاملات پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے انہیں براہ راست اس کام کا ذمہ نہیں سونپا۔ مذاکرات کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی ضروری ہے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے عوامی مفادات کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پالیسیاں بنانے پر زور دیا۔
سہیل آفریدی نے ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی فنڈز کے بقایاجات ادا کرنے، امن و امان بہتر بنانے، اور ترقیاتی منصوبے نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی رہائی کے لیے سازگار حالات کی ضرورت ہوگی اور عوام کو متحرک کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے اپنی حکومت کی شفافیت، میرٹ، اور بدعنوانی کے خاتمے کے اصولوں پر عمل کرنے کا عندیہ دیا اور اعلان کیا کہ 8 فروری کو احتجاج کیا جائے گا۔
