ڈھاکہ — بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک اہم باب اس وقت بند ہو گیا جب ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور چار دہائیوں تک سیاسی منظرنامے پر نمایاں رہنے والی شخصیت خالدہ ضیاء 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کو بنگلہ دیش میں ایک تاریخی دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ عوام اور سیاسی حلقے اس رہنما کو یاد کر رہے ہیں جس نے صنفی رکاوٹیں توڑیں، شدید سیاسی مخالفت کا سامنا کیا اور جمہوری نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح 6 بجے اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ پارٹی کے مطابق وہ کئی ماہ سے شدید علیل تھیں اور ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بیگم خالدہ ضیاء پاکستان کی دوست تھیں، اور پاکستان اس مشکل گھڑی میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔”
🏠 گھریلو خاتون سے قومی رہنما تک
خالدہ ضیاء، جن کا اصل نام خالدہ خانم تھا، نے کم عمری میں پاکستانی فوجی افسر ضیاء الرحمٰن سے شادی کی، جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ تاہم 1981 میں ان کے قتل کے بعد خالدہ ضیاء کی زندگی نے نیا موڑ لیا۔
36 سال کی عمر میں، ایک بیوہ اور گھریلو خاتون ہونے کے باوجود، انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بی این پی کی قیادت سنبھالتے ہوئے خود کو ملکی سیاست کی مرکزی شخصیت کے طور پر منوایا۔
🏛️ تاریخی وزارتِ عظمیٰ
1990 کی دہائی میں، تقریباً 20 برس بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ انہوں نے پانچ حلقوں سے کامیابی حاصل کی اور صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام بحال کیا، جسے جمہوریت کی بحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی جماعت کو منظم کیا، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اتحاد قائم کیے اور خود کو ایک مضبوط قومی رہنما کے طور پر منوایا۔
⚖️ سیاسی تنازعات اور جدوجہد
خالدہ ضیاء کا سیاسی سفر تنازعات سے خالی نہیں رہا۔ انہیں کرپشن کے الزامات، قید اور شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کے ساتھ سخت سیاسی کشمکش کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ کثیر الجماعتی جمہوریت کی حامی رہیں۔
ان کے بیٹے طارق رحمان طویل عرصے بعد 25 دسمبر کو برطانیہ سے ڈھاکہ واپس آئے، مگر چند دن بعد ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اب وہ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔
🌍 علاقائی تعلقات اور ورثہ
خالدہ ضیاء کے دورِ سیاست میں بھارت کے ساتھ تعلقات پیچیدہ رہے، تاہم 2015 میں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی کی، جو ایک غیر معمولی سیاسی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک قدامت پسند معاشرے میں ایک بیوہ خاتون سے لے کر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تک کا سفر، خالدہ ضیاء کی غیر معمولی سیاسی جدوجہد کا عکاس ہے۔ ان کا سیاسی ورثہ آنے والی نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔
