پنجابی ادب کا ایک اور باب بند ہوا ملک تجمل کلیم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ملک تجمل کلیم سے ملنے کا ارادہ میں نے کینیڈا سے روانہ ہوتے وقت ہی کیا تھا ۔جب میں نے چونیاں پہنچ کر سید عامر تقوی سے اظہار کیا تو انہوں نے اگلی شام ملنے کا پروگرام بنا لیا ۔ جیسے ہی میں اس کمرے میں داخل ہوا جہاں استاد تجمل کلیم لیٹے اور پانچ چھ مداحین گھیرا ڈالے بیٹھے ہوئے تھے تجمل کلیم نے ہماری آمد اور سلام کو نوٹس کیا تو پہلی ہی نظر میں پہچان کر بولے” آو مرشد ‘جی آیاں نوں ۔کہنے لگنے اگر میں بیمار اور کمزور نہ ہوتا تو اٹھ کر ضرور ملتا آپ کو ” ۔شرمندہ نہ کریں مجھے علم ہے آپ سے ہمارا محبت اور احترام کا برسوں پرانا تعلق ہے ۔

میں بطور خاص آپ سے ملنے اور خیریت دریافت کرنے حاضر ہوا ہوں۔میں نے جواب میں اپنی محبت کا اظہار کیا تو وہ مسکرا دئیے ۔ ۔میرے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی گئی ۔ آدھ گھنٹہ سے زائد ملاقات میں ان کی شاعری اور ان کے اعزاز میں کچھ عرصہ قبل ہونے والی پر وقار تقریبات کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔استاد تجمل کلیم کا مورال حسب معمول بہت ہائی تھا ۔

دوبارہ ملاقات میں ایک انٹرویؤ ریکارڈ کرنے کے پروگرام پر ملاقات کا اختتام ہوا جس کے لئے انہوں نے کمال محبت سے رضامندی کا اظہار کیا ۔ اتوار کو فرصت تھی ۔سید عامر تقوی ‘محمد طارق چغتائی اور ذیشان خالد کے ساتھ ہم جب ان کے گھر پہنچے تو تجمل کلیم نے فورآ کہا ” باوا جی آپ نے تو سوموار کا کہا تھا ۔آج ہی آگئے؟” ان کی یاد داشت پر ہمیں بڑا رشک آیا ۔ ہم نے اپنی فرصت کا بتا یا تو وہ راضی ہوگئے ۔ انٹرویو میں تمام سوالات کے جواب بڑے اچھے موڈ میں دئیے ۔ یہ یادگار ملاقات اس وقت آخری ثابت ہوئی جب وہ گزشتہ رات اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ بلاشبہ پنجابی ادب و شاعری کے حلقے ایک بلند پایہ اور انمول شاعر سے محروم ہو گئے ۔اللہ کریم ان کے مداحین کو صبر دے اور ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے ۔آمین

اپنا تبصرہ لکھیں