🇨🇦 ایران پر حملوں سے متعلق مارک کارنی کا بیان
Mark Carney نے ایران میں جاری تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران پر حملوں کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن یہ مؤقف وہ “افسوس کے ساتھ” اختیار کر رہے ہیں۔
سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیڈا طویل عرصے سے ایران کے جوہری خطرے کو عالمی امن کے لیے سنجیدہ مسئلہ سمجھتا آیا ہے۔
کارنی کے مطابق:
“موجودہ تنازع بین الاقوامی نظام کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔”
🇺🇸 امریکہ اور 🇮🇱 اسرائیل کے اقدامات پر تنقید
کارنی نے اس بات پر تنقید کی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر کارروائی سے قبل اقوام متحدہ یا اتحادی ممالک، بشمول کینیڈا، سے مکمل مشاورت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری بم ہونا عالمی سطح پر ایک “بڑے پیمانے کا خطرہ” ہوگا۔ ان کا کہنا تھا:
“کوئی بھی سول نیوکلیئر پروگرام صحرا کے نیچے ایک میل گہرائی میں دفن نہیں ہوتا — یہ ایک خطرہ ہے۔”
🇮🇳 بھارت کے ساتھ تعلقات پر اہم پیش رفت
اپنے دورہ آسٹریلیا کے دوران کارنی سے بھارت کے ساتھ تعلقات پر بھی سوالات کیے گئے۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کو “فرینک” قرار دیا۔
کارنی حکومت کے تحت دونوں ممالک کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو 2023 میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد شدید متاثر ہوئے تھے۔
ہردیپ سنگھ نجار کیس کیا ہے؟
Hardeep Singh Nijjar، جو برٹش کولمبیا میں مقیم ایک سکھ رہنما تھے، 2023 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم Justin Trudeau نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس قتل میں ملوث ہے، جسے بھارت نے سختی سے مسترد کر دیا۔
اس تنازع کے بعد:
دونوں ممالک نے سفارتکاروں کو ملک بدر کیا
ویزا سروسز معطل کی گئیں
تجارتی تعلقات تقریباً منجمد ہو گئے
اس وقت برٹش کولمبیا کی عدالت میں چار ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔
🤝 نیا جوہری اور دفاعی معاہدہ
حال ہی میں کینیڈا اور بھارت نے جوہری توانائی، اہم معدنیات، خلائی تحقیق، دفاع اور تعلیم کے شعبوں میں “تاریخی” معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔
