کراکس اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات
کراکس – وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور اس کے آس پاس کی ریاستوں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکے مبینہ طور پر سویلین اور فوجی مقامات کے قریب سنے گئے۔
عینی شاہدین نے کم بلندی پر اڑتے ہوئے طیاروں کی اطلاع دی، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
وینزویلا حکومت کا ردعمل اور ایمرجنسی
وینزویلا کے حکام نے ان واقعات کو ملک پر حملہ قرار دیتے ہوئے صدر نکولس مادورو کی جانب سے قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔
اہم مقامات جیسے Fuerte Tiuna، Los Teques اور 23 de Enero کے علاقوں کا ذکر کیا گیا، جہاں صورتحال غیر معمولی بتائی جا رہی ہے۔

مادورو اور اہلیہ کی مبینہ گرفتاری کا دعویٰ
بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وینزویلا حملوں کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاہم، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور وینزویلا کے حکام نے تاحال مادورو کی حیثیت سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
امریکی اور علاقائی ردعمل
بوگوٹا میں امریکی سفارت خانے نے وینزویلا میں موجود امریکی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ممکن ہو تو فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ اس حوالے سے لیول 4: سفر نہ کریں کی ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔
کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے مبینہ طور پر متاثرہ مقامات کی ایک فہرست شیئر کی، جس میں:
لا کارلوٹا ایئربیس
فیڈرل لیجسلیٹو پیلس
متعدد ہوائی اڈے
شامل بتائے گئے ہیں۔
سیاسی پس منظر اور عالمی صورتحال
نکولس مادورو خود کو وینزویلا کے سوشلسٹ نظام کا محافظ اور امریکی مداخلت کا سخت ناقد قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کی حکومت پر آمریت اور انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
کیوبا وینزویلا کے قریبی اتحادیوں میں شامل ہے، جبکہ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے مادورو کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں دنیا بھر کی نظریں کراکس پر جمی ہوئی ہیں، جہاں بے یقینی برقرار ہے۔
