یو ایس سٹرائیکس وینزویلا اور مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ
اسلام آباد – یو ایس سٹرائیکس وینزویلا کے بعد کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے لیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی وینزویلا پر “بڑے پیمانے پر امریکی حملوں” کے دوران انجام دی گئی، جس کے بعد دونوں کو ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔
ٹرمپ کا بیان اور سوشل میڈیا دعویٰ
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے جنوبی امریکی ملک کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن کیا، جو ان کے بقول کامیاب رہا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران اس کارروائی کی تفصیلات دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ یہ دعویٰ کاراکاس میں دھماکوں اور فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔
وینزویلا کا ردعمل اور حکومتی مؤقف
وینزویلا کے وزیر داخلہ ڈیوسڈاڈو کابیلو نے تصدیق کی کہ ملک پر حملہ ہوا ہے، اور الزام لگایا کہ امریکہ نے رات کے وقت اچانک کارروائی کی جب شہری سو رہے تھے۔
انہوں نے اسے “غدارانہ اور گھٹیا حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا طویل عرصے سے امریکی دھمکیوں کا سامنا کر رہا تھا۔
توانائی کا شعبہ اور بندرگاہوں کی صورتحال
سرکاری تیل کمپنی PDVSA سے منسلک ذرائع کے مطابق، فوجی کارروائی کے باوجود تیل کی پیداوار اور ریفائننگ معمول کے مطابق جاری ہے۔
تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاراکاس کے قریب لا گویرا بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اہم توانائی کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ رہا۔
یورپ اور عالمی ردعمل
برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹ رہنما ایڈ ڈیوی نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو خبردار کیا کہ امریکی کارروائی کی مذمت نہ کرنا ایک خطرناک عالمی مثال قائم کر سکتا ہے۔
اٹلی نے اپنے تقریباً 160,000 شہریوں کی موجودگی کے باعث بحران یونٹ فعال کر دیا، جبکہ یورپی یونین نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی تصدیق کی۔
اقوام متحدہ میں وینزویلا کا مؤقف
اقوام متحدہ میں وینزویلا کے نمائندے نے کہا کہ ملک یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ یوان گل نے امریکی “جارحیت” کے خلاف سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی باضابطہ درخواست دینے کا اعلان کیا۔
امریکہ، روس اور اسپین کے بیانات
امریکی سینیٹر مائیک لی کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ مادورو کو امریکی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے اور اب انہیں امریکہ میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
روس نے امریکی کارروائی کو “مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی، جبکہ اسپین نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
غیر یقینی صورتحال اور خدشات
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ حکومت کو مادورو اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کے بارے میں علم نہیں اور عوام سے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ مادورو کا ملک سے نکلنا گرفتاری نہیں بلکہ بات چیت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
