ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کو بڑھتے خطرات
نئی دہلی – ہندوستان میں عیسائیوں پر حملے اور نفرت پر مبنی واقعات میں مبینہ طور پر تیزی آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال ملک کے آئینی سیکولرازم اور مذہبی آزادی کے تصور کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
عیسائی، جو بھارت کی آبادی کا تقریباً 2.3 فیصد ہیں، ایک طویل عرصے سے سماجی اور معاشی طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں۔
ڈبلیو ایس جے کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے بعد اب عیسائی برادری کو بھی تشدد، نفرت انگیز مہمات اور دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مسلمان طویل عرصے سے امتیازی سلوک کا سامنا کرتے آ رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں عیسائی بھی اسی طرز کے حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔
تبدیلیٔ مذہب کے قوانین اور الزامات
انتہا پسند ہندو گروپوں کی جانب سے عیسائیوں پر جبری تبدیلی مذہب کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کی کم از کم 12 ریاستوں میں ایسے قوانین نافذ ہیں جو مبینہ طور پر زبردستی، دھوکہ دہی یا ترغیب کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کو جرم قرار دیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق یہ قوانین پرامن مذہبی سرگرمیوں کو بھی مشکوک بنا دیتے ہیں۔
کرسمس کے موقع پر تنازعات اور تشدد
کرسمس، جو طویل عرصے سے بھارت میں سرکاری تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ بعض ریاستوں میں کرسمس کے موقع پر:
گرجا گھروں کے باہر ہجوم
نفرت انگیز نعرے
عبادات میں خلل
کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مختلف ریاستوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات
مدھیہ پردیش میں ایک مبینہ واقعے میں کرسمس کی تقریب کے دوران چرچ میں ہنگامہ آرائی کی گئی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔
چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں شاپنگ مالز میں کرسمس کی سجاوٹ کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی نوعیت کے واقعات بی جے پی کے زیرِ انتظام دیگر ریاستوں سے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات
بھارتی انسانی حقوق کی تنظیم Citizens for Justice and Peace نے اس سال کی کرسمس کو “اکثریتی غلبے کے اظہار” سے تعبیر کیا۔
دوسری جانب United Christian Forum کے مطابق:
2014 میں حملوں کے 139 واقعات
2024 میں 834 واقعات
نومبر 2025 تک 706 واقعات رپورٹ ہوئے
یہ اعداد و شمار تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں۔
عالمی ردعمل اور امریکی رپورٹ
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2025 رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر “خاص تشویش کا ملک” قرار دیا جائے۔
رپورٹ میں پولیس کی مبینہ عدم فعالیت اور ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مودی کا مؤقف اور ناقدین کی رائے
کرسمس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں چرچ کی تقریب میں شرکت کی اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدام علامتی تھا، کیونکہ حملوں کی واضح مذمت یا ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نظر نہیں آئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں عیسائیوں پر حملے ملک کے سیکولر ڈھانچے کے کمزور ہونے کی علامت ہیں۔
