راولپنڈی:
راولپنڈی کے کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال میں خواتین کے واش رومز میں خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے کے سنگین واقعے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ہسپتال کے سیکیورٹی سپروائزر نعمان کی مدعیت میں کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، سیکیورٹی عملے کو واش روم سے ایک خاتون کی چیخ سنائی دی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو موقع پر ہی قابو میں لے لیا گیا۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے ملزم کے موبائل فون کی جانچ کی تو اس میں متعدد قابل اعتراض ویڈیوز موجود تھیں، جن میں خواتین کو خفیہ طور پر فلمایا گیا تھا۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور موبائل فون کو شواہد کے طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزم اس سے قبل بھی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث رہا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل راولپنڈی کے ہی ہولی فیملی ہسپتال میں بھی ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے غلطی سے ایک نومولود بچے کو مردہ قرار دے دیا تھا۔ بعد ازاں جب والدین بچے کی لاش وصول کرنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ نوزائیدہ زندہ ہے اور آکسیجن لے رہا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کو Lazarus Syndrome کا سامنا ہوا تھا، جو ایک نایاب طبی حالت ہے جس میں سانس عارضی طور پر رک جاتی ہے، تاہم یہ جان لیوا نہیں ہوتی۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت نے معاملے کی انکوائری شروع کر دی ہے۔
