کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں KSE-100 انڈیکس نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے پہلی بار 179 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کر لی۔
انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک انڈیکس 2,661 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 179,016.88 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جو گزشتہ کاروباری دن کے اختتام 176,355.49 پوائنٹس کے مقابلے میں 1.49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں اس غیر معمولی تیزی کی ایک بڑی وجہ عالمی مالیاتی ادارے بلومبرگ کی تازہ رپورٹ ہے، جس میں پاکستان میں افراطِ زر میں نمایاں کمی اور معاشی استحکام کی تصدیق کی گئی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق دسمبر میں افراطِ زر کی شرح کم ہو کر 5.6 فیصد پر آ گئی، جو نومبر میں 6.1 فیصد تھی اور مارکیٹ کی توقعات سے بھی کم رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث فوڈ انفلیشن 3.24 فیصد تک محدود رہی، جس سے مجموعی قیمتوں میں استحکام آیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہتر معاشی حکمرانی، پالیسی تسلسل اور مہنگائی میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے، جس کا براہِ راست اثر اسٹاک مارکیٹ پر نظر آ رہا ہے۔
اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر لے آیا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے قرضوں کی لاگت کم ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق افراطِ زر میں کمی، شرح سود میں نرمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں کمی نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا ہے، جس سے مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
