ریاض — سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کی درخواست کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی تمام افواج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی یمنی فریق کو فوجی یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پائیدار امن کا واحد راستہ سیاسی مذاکرات ہیں، نہ کہ عسکری مداخلت۔ بیان میں جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حالیہ سرگرمیوں میں متحدہ عرب امارات کے مبینہ کردار کو افسوسناک قرار دیا گیا۔
ریاض نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات سعودی قومی سلامتی، یمن کے امن اور پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی حکومت کے مطابق یہ سرگرمیاں اس عرب اتحاد کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں جو یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو سرخ لکیر سمجھا جائے گا اور مملکت ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
بیان میں یمن کی صدارتی قیادت کونسل (PLC) اور قانونی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یمن کی خودمختاری، استحکام اور امن کے لیے مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن کا جنوبی مسئلہ تاریخی اور سماجی نوعیت کا حامل ہے، جس کا حل صرف جامع سیاسی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، جن میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریقوں کی شمولیت ضروری ہے۔
ریاض نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج واپس بلائے اور تمام دھڑوں کو دی جانے والی فوجی و مالی مدد بند کرے۔
بیان میں خلیجی ممالک کے درمیان بھائی چارے، دانشمندی اور اچھے ہمسایہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
⚠️ پس منظر
اس سے قبل یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین راشد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق، انہوں نے یو اے ای کی تمام افواج کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا حکم دیا۔
راشد العلیمی نے یمن کی تمام بندرگاہوں اور گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی کا بھی اعلان کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائیاں کیں، جن میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
