کیا پاکستان میں یوٹیوب ٹی وی سے بڑا میڈیا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے؟
اسلام آباد: پاکستان میں میڈیا کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خاص طور پر یوٹیوب، روایتی ٹیلی ویژن کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک میں 50 ملین سے زائد افراد یوٹیوب استعمال کر رہے ہیں، جو اسے پاکستان کا سب سے بڑا اور طاقتور ویڈیو پلیٹ فارم بنا دیتا ہے۔
ایک وقت تھا جب ٹی وی ہی خبروں، تفریح اور سیاسی مباحث کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب ناظرین بڑی تعداد میں کیبل چھوڑ کر موبائل فون اور اسمارٹ ٹی وی اسکرینز کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں یوٹیوب نہ صرف ٹی وی کا متبادل بن رہا ہے بلکہ کئی پہلوؤں میں اس سے زیادہ مؤثر بھی ثابت ہو رہا ہے۔
یوٹیوب کی بڑھتی ہوئی طاقت
یوٹیوب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام افراد کو بھی اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیتا ہے۔ آزاد تخلیق کار، جو ماضی میں روایتی میڈیا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے، اب براہِ راست لاکھوں ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔ بعض اوقات ایک واحد ویڈیو وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو ٹی وی پروگرامز کئی دنوں میں بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
ٹی وی چینلز بھی یوٹیوب پر انحصار کرنے لگے
پاکستان کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس بھی اب یوٹیوب کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اطلاعات کے مطابق، کئی چینلز اپنی ڈیجیٹل آمدن کا قابلِ ذکر حصہ یوٹیوب سے حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد یوٹیوبرز کم وسائل کے باوجود زیادہ ناظرین حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جو میڈیا کے روایتی ماڈل کو چیلنج کر رہا ہے۔
مواد میں تنوع اور لانگ فارم ویڈیوز
یوٹیوب پر موجود مواد کی اقسام بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کامیڈی، کرکٹ، پوڈکاسٹس، مذہبی پروگرامز، تعلیمی ویڈیوز، فوڈ وی لاگز، فیشن اور لائف اسٹائل جیسے موضوعات لاکھوں افراد کی دلچسپی کا مرکز بن چکے ہیں۔ خاص طور پر طویل دورانیے کی ویڈیوز اور معیاری پروڈکشن نے ناظرین کے دیکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔
اسمارٹ ٹی وی کا کردار
اسمارٹ ٹی وی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے یوٹیوب کو گھریلو اسکرین تک پہنچا دیا ہے، جہاں اب یہ کئی گھروں میں باقاعدہ ٹی وی چینلز کا متبادل بنتا جا رہا ہے۔ ناظرین اب اپنی سہولت کے مطابق مواد دیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے روایتی نشریات کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
چیلنجز اور ڈیجیٹل آزادی
اگرچہ یوٹیوب نے اظہارِ رائے کو وسعت دی ہے اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم ڈیجیٹل سنسرشپ، مواد پر پابندیاں اور نگرانی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل میڈیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کتنی آزادی دی جاتی ہے۔
نتیجہ
پاکستان میں یوٹیوب اب صرف ایک ویڈیو شیئرنگ ایپ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل میڈیا پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یوٹیوب روایتی ٹی وی سے بھی زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتا ہے۔
📌 ایڈیٹر نوٹ (اختیاری)
یہ خبر تجزیاتی نوعیت کی ہے اور عوامی مشاہدات پر مبنی ہے۔
