کراچی: اس جنوری سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی، تقریباً ایک دہائی بعد دو طرفہ تعلقات میں تاریخی بحالی کا نشان۔ یہ اعلان ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
عمران حیدر کے مطابق، کراچی اور ڈھاکہ کے درمیان براہ راست پروازیں سفر، تجارت اور تعاون کے نئے دور کا آغاز کریں گی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ہوابازی، ثقافتی، تعلیمی اور طبی تبادلوں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں اسلام آباد، کراچی اور ڈھاکہ کے درمیان تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے کاروباری برادری نئے مواقع تلاش کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ بنگلہ دیشی طلباء پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، خاص طور پر میڈیکل سائنسز، نینو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
مزید بنگلہ دیشی مریض جگر اور گردے کی پیوند کاری کے لیے پاکستان کے مشہور ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، اور پاکستان ان طلباء اور طبی پیشہ وران کو تربیت اور تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عوام، ثقافت اور سفر کے تبادلوں کو فروغ دینا اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران حیدر کے دور میں دونوں ممالک تعاون کے مزید مواقع تلاش کریں گے۔
یہ براہ راست پروازیں تقریباً دس سال بعد دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے 2015 میں ڈھاکہ کے لیے آخری پروازیں چلائی تھیں، اور اب فروری سے نجی ایئر لائن فلائی جناح بھی کراچی-ڈھاکہ رُوٹ پر پروازیں شروع کرے گی۔
